0
Thursday 27 Jun 2024 22:52

مغرب "نسل کشی کی مالی معاونت" کر رہا ہے، نوبل انعام یافتہ یورپی امن کارکن

مغرب "نسل کشی کی مالی معاونت" کر رہا ہے، نوبل انعام یافتہ یورپی امن کارکن
اسلام ٹائمز۔ سال 1976ء میں امن کا نوبل انعام پانے والی آئرلینڈ کی معروف امن کارکن 80 سالہ محترمہ میریڈ میگوائر (Mairead Maguire) نے ترکی کی اناطولیہ نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنگ غزہ اور غاصب صیہونی رژیم کے کھلے جنگی جرائم کی شدید مذمت کی ہے۔

میریڈ میگوائر نے 1960ء و 1990ء کی دہائیوں میں شمالی آئرلینڈ میں جاری تنازعات کے دوران اپنی پرامن سرگرمیوں پر مشترکہ نوبل امن انعام جیتا تھا۔

ترک خبررساں ایجنسی کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں میریڈ میگوائر نے کہا کہ آپ نسل کشی کے ذریعے کبھی بھی امن قائم نہیں کر سکتے اور یہی (نسل کشی) آج بدقسمتی سے فلسطینی عوام کے ساتھ بھی ہو رہا ہے جبکہ اسرائیل ایک اپارتھائیڈ (نسل پرست) ریاست ہے کہ جو نسل کشی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ (غاصب صیہونی) فلسطینی عوام کی سرزمینوں پر قبضے کے لئے پرعزم ہیں!

اپنے انٹرویو میں میریڈ میگوائر کہ جنہوں نے روایتی فلسطینی لباس پہن رکھا تھا، نے نہتے فلسطینی عوام کے مصائب کے بارے کہا کہ میں نے کئی بار فلسطین کا سفر کیا ہے اور میں فلسطینیوں کی ان غیر معمولی مشکلات کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی کہ جنہیں اسرائیلیوں نے ان پر مسلط کر رکھا تھا۔۔ فلسطین میں مردوں، عورتوں و بچوں کے خلاف جاری یہ وحشیانہ، غیر انسانی اور ظالمانہ جنگ اب ختم ہو جانی چاہیئے!


 
انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں فلسطینی بچے مر رہے ہیں اور دنیا صرف دیکھ رہی ہے۔۔ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیئے۔۔ بہت ہو گیا ہے۔۔

نوبل انعام یافتہ یورپی امن کارکن نے اس انسانیت سوز جنگ میں مغرب کے مذموم کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ امریکہ نے دنیا بھر کو مایوس کیا ہے۔۔ وہ (مغرب) نسل کشی کی مالی معاونت کر رہا ہے۔۔ وہ نسل کشی کے لئے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے امریکہ اس میں براہ راست طور پر ملوث ہے۔ وہ (امریکی صدر) صبح ہونے سے قبل ہی اس جنگ کو ختم کر سکتا ہے۔۔ اگر وہ اسرائیل کو بم و رقوم دینے سے گریز کرے لیکن امریکہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ایسا ہر گز نہیں کرے گا!!

محترمہ میریڈ میگوائر نے امریکہ کے اندر غاصب صیہونی رژیم کے شیطانی کردار کے بارے بھی کہا کہ وہ ایسا نہیں کرتے کیونکہ امریکہ اسرائیل کی حمایت کے ساتھ وابستہ ہے۔۔ (یہانتک کہ) کانگریس میں منتخب ہونے کے لئے۔۔ انہیں (اسرائیلی لابیوں) سے پیسے ملتے ہیں۔۔ وہ اسرائیلی افواج سے پیسے لیتے ہیں اور بچوں کو بھوک سے مرنے دیتے ہیں۔۔

غاصب صیہونی رژیم کے مخالفین پر لگائے جانے والے "یہود مخالف" الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ میڑیڈ میگوائر نے کہا کہ جو لوگ غزہ کے چھوٹے بچوں کے دفاع میں بات کرتے ہیں۔۔ انہیں "یہود مخالف" کہہ دیا جاتا ہے۔۔ ہمیں ایسی دنیا نہیں چاہیئے کہ جس کی سپر پاور بے گناہوں کا قتل عام کرے۔۔ ہم "یہود مخالف" نہیں۔۔ کیونکہ جب آپ انصاف کا، سچائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو آپ انسان ہیں اور آپ نے انسانیت کا مطالبہ کیا ہے!


 
انہوں نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی کہ یہ (صیہونی حکام) مجرم ہیں۔۔ وہ آسمان سے امریکہ، جرمنی، برطانیہ، یورپ کے تیار کردہ بم برسا رہے ہیں۔۔ وہ مجرم ہیں اور ان کا احتساب ہونا چاہیئے۔۔ میں قتل عام کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے عالمی عدالت انصاف (ICJ) کو سراہتی ہوں۔۔ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی بھی تعریف کرتی ہوں۔۔
خبر کا کوڈ : 1144268
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش