سعودی لڑاکا طیاروں کی کاروائی ، یمن میں ایک ہی خاندان کے ۹ افراد جاں بحقکرم ایجنسی میں ڈرون حملہ، 3 دہشت گرد ہلاکبرما کے بے گھر مسلمانوں کیلئے ایران کا امدادی کاروان روانہ / آج پہلی امدادی کھیپ بنگلہ دیش روانہ کر دی گئیایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے روس کا دورہ کیا / سوچی میں ولادیمیر پوٹین سے ملاقاتبرما کے مسئلہ کا حل مسلمان ممالک کی عملی مداخلت سے حل ہو گا، رہبر معظم انقلاب اسلامیرہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اب سے چند گھنٹے پہلے اپنے درس فقہ میں برما کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی شدید الفاظ میں شامی فوج اور مقاومتی فورسز کی پیشقدمی، دیرالزور کا فوجی ہوائی اڈہ آزادوزیر خارجہ پاکستان کی جناب آقای روحانی صدر جمہوری اسلامی ایران سے ملاقات / دو جانبہ مسائل پر گفتگوخواجہ آصف کی ایران آمد / وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقاتشام صوبہ دیرالزور سے داعش کا مکمل خاتمہ / متحدہ فورسز کا جبل الثردہ پر کنٹرول
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Thursday 17 August 2017 - 11:42
Share/Save/Bookmark
تفتان بارڈر پر زائرین کیساتھ توہین آمیز رویہ افسوسناک ہے، مزید برداشت نہیں کریں گے، سبطین سبزواری
تفتان بارڈر پر زائرین کیساتھ توہین آمیز رویہ افسوسناک ہے، مزید برداشت نہیں کریں گے، سبطین سبزواری
 
 
ایس یو سی پنجاب کے صدر کا کہنا تھا کہ ملت جعفریہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، شاید نااہل عناصر کو تاریخ کا علم نہیں کہ بنو اُمیہ اور بنو عباس کی حکومتیں آئمہ اہلبیت علیہم السلام کے مزارات مقدسہ پر زیارات کا راستہ روکنے میں ناکام رہیں اور اب کوئی ان کا اچھے لفظوں میں نام لینے تیار نہیں، تو موجودہ حکومتیں بھی زیارت کربلا و نجف کو روکنے میں ناکام ہوں گی۔ شیعہ علما کونسل کے رہنما نے متنبہ کیا کہ ہمیں انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے کہ حکومت کیلئے حالات سنبھالنا مشکل ہو جائیں گے۔
 
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے تفتان بارڈر پر عراق اور ایران سے آنیوالے زائرین کو سازش کے تحت بلاوجہ تنگ کیا جا رہا ہے، اس توہین آمیز رویے کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک اور ریاست کیلئے مشکلات پیدا کریں، بہتر ہے متعصبانہ رویہ تبدیل کیا جائے۔ لاہور میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ زائرین کا مسئلہ ناقابل برداشت حد تک اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، بار بار متوجہ کیا گیا مگر لگتا ہے کہ متعلقہ ادارے اور حکومتیں بے ہوشی میں ہیں، جنہیں شہریوں کے مسائل نظر نہیں آ رہے، تفتان بارڈر پر پاکستان ہاؤس کو زائرین کا قید خانہ بنا دیا گیا ہے، جہاں بیٹھنے کی جگہ ہے، پینے کا ٹھنڈا پانی ہے اور نہ ہی بنیادی ضروریات زندگی کا سامان، لوگ واش رومز کا پانی پینے پر مجبور ہیں، خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر رکھا گیا ہے، ٹرانسپورٹ مہیا نہیں کی جاتی اور یہ رویہ جاتے اور آتے روا رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ملت جعفریہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، شاید نااہل عناصر کو تاریخ کا علم نہیں کہ بنو اُمیہ اور بنو عباس کی حکومتیں آئمہ اہلبیت علیہم السلام کے مزارات مقدسہ پر زیارات کا راستہ روکنے میں ناکام رہیں اور اب کوئی ان کا اچھے لفظوں میں نام لینے تیار نہیں، تو موجودہ حکومتیں بھی زیارت کربلا و نجف کو روکنے میں ناکام ہوں گی۔ شیعہ علما کونسل کے رہنما نے متنبہ کیا کہ ہمیں انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے کہ حکومت کیلئے حالات سنبھالنا مشکل ہو جائیں گے، زیارات کیلئے اس راستے کو جاری رکھیں گے اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، حکومت زائرین کی واپسی اور ان کی سہولیات کا اہتمام کرے، اور مستقل بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کیا جائے، جو کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ علامہ سبطین سبزواری نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری سے مطالبہ کیا کہ وہ زائرین کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔
 
خبر کا کوڈ: 661946