سعودی لڑاکا طیاروں کی کاروائی ، یمن میں ایک ہی خاندان کے ۹ افراد جاں بحقکرم ایجنسی میں ڈرون حملہ، 3 دہشت گرد ہلاکبرما کے بے گھر مسلمانوں کیلئے ایران کا امدادی کاروان روانہ / آج پہلی امدادی کھیپ بنگلہ دیش روانہ کر دی گئیایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے روس کا دورہ کیا / سوچی میں ولادیمیر پوٹین سے ملاقاتبرما کے مسئلہ کا حل مسلمان ممالک کی عملی مداخلت سے حل ہو گا، رہبر معظم انقلاب اسلامیرہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اب سے چند گھنٹے پہلے اپنے درس فقہ میں برما کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی شدید الفاظ میں شامی فوج اور مقاومتی فورسز کی پیشقدمی، دیرالزور کا فوجی ہوائی اڈہ آزادوزیر خارجہ پاکستان کی جناب آقای روحانی صدر جمہوری اسلامی ایران سے ملاقات / دو جانبہ مسائل پر گفتگوخواجہ آصف کی ایران آمد / وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقاتشام صوبہ دیرالزور سے داعش کا مکمل خاتمہ / متحدہ فورسز کا جبل الثردہ پر کنٹرول
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Saturday 3 June 2017 - 19:07
Share/Save/Bookmark
بھاجپا ناکامی چھپانے کیلئے نئے نئے بہانے تلاش کررہی ہے، راہل گاندھی
بھاجپا ناکامی چھپانے کیلئے نئے نئے بہانے تلاش کررہی ہے، راہل گاندھی
 
 
کانگریس پارٹی کے نائب صدر نے ٹوئٹر پر ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال کی آخری سہ ماہی میں جی ڈی پی بڑھ کر چھے اعشاریہ ایک فیصد رہی ہے۔
 
اسلام ٹائمز۔ کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے بھارت میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح میں کمی پر بھاجپا حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا بنیادی طور پر اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اعداد و شمار گھڑ رہی ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کرکے کہا ’’جی ڈی پی گر رہی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے نئے نئے موضوعات گھڑے جا رہے ہیں‘‘۔ کانگریس پارٹی کے نائب صدر نے ٹوئٹر پر ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال کی آخری سہ ماہی میں جی ڈی پی بڑھ کر چھے اعشاریہ ایک فیصد رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے دنیا کی تیزی سے ترقی کر رہی معیشت کا درجہ بھی کھودیا ہے۔ اس دوران چین کی شرح ترقی سولہ عشاریہ نو فیصد رہی۔ 2016ء اور 2017ء کے دوران جی ڈی پی کی شرح سات اعشاریہ ایک فیصد رہی جبکہ پچھلے مالی سال میں یہ آٹھ فیصد تھی۔
 
خبر کا کوڈ: 642848