ہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاریچوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کو مزید مشکوک کر دیا، جلسے کی اجازت نہیں تھی تو سکیورٹی کیوں دی گئی؟ ملک عامر ڈوگرحکمران اور سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، علامہ ساجد نقویکراچی، ناظم آباد میں مجلس عزا کے دوران تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ، چھ افراد شہید، متعدد زحمیکراچی، تکفیری دہشتگردوں نے خواتین کی مجلس عزا کے باہر موجود مردوں کو نشانہ بنایافوجی آمر پرویز مشرف نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کو دوام دیتے ہوئے بغیر ثبوت و شواہد کے تحت تحریک جعفریہ پر پابندی لگائی، علامہ ساجد نقویڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم داعش کے 8 دہشتگرد ہلاک، 3 فرارعمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کیلئے جو رقم تقسیم کی ہے کہیں وہ ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں استعمال نہ ہو، پیر محفوظ م
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 23:20
Share/Save/Bookmark
ہم سے نہ تو سعودی حکومت نے رابطہ کیا، نہ ہی راحیل شریف نے کوئی درخواست کی، خواجہ آصف کا یوٹرن
ہم سے نہ تو سعودی حکومت نے رابطہ کیا، نہ ہی راحیل شریف نے کوئی درخواست کی، خواجہ آصف کا یوٹرن
 
 
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو راحیل شریف سے متعلق پہلے بیان دیا تھا اس وقت ان کے پاس تفصیلات نہیں تھیں اور اسلامی اتحاد سے متعلق موقف سینیٹ میں بتادیا گیا ہے۔
 
اسلام ٹائمز۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے چند روز پہلے جاری اپنا بیان بدلتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سے نہ تو سعودی حکومت نے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی راحیل شریف نے اس حوالے سے کوئی درخواست کی ہے، جب بھی انہیں آفر ہوگی وہ متعلقہ ادارے سے رابطہ کریں گے۔
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو راحیل شریف سے متعلق پہلے بیان دیا تھا اس وقت ان کے پاس تفصیلات نہیں تھیں اور اسلامی اتحاد سے متعلق موقف سینیٹ میں بتادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راحیل شریف سات جنوری کی شام کو عمرے سے واپس آ گئے تھے ہم سے نہ سعودی حکومت نے رابطہ کیا نہ ہی راحیل شریف نے، جب بھی انہیں آفر ہوگی وہ متعلقہ ادارے سے رابطہ کرینگے۔ یاد رہے کہ 6 جنوری کو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ راحیل شریف کی سعودی عرب میں تعیناتی حکومتی منشاء اور جی ایچ کیو سے کلیئرنس کے بعد ہوئی، جنرل (ر) راحیل شریف کی سعودی عرب میں تعیناتی پرسوں ترسوں ہوئی، تعیناتی کے لیے باقاعدہ کلیئرنس ہوتی ہے، تعیناتی میں حکومتی منشاء شامل  ہے۔
 
خبر کا کوڈ: 599270