پاراچنار، پاک افغان سرحد پر متھہ سنگر کے قریب ڈرون حملہ، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاریچوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کو مزید مشکوک کر دیا، جلسے کی اجازت نہیں تھی تو سکیورٹی کیوں دی گئی؟ ملک عامر ڈوگرحکمران اور سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، علامہ ساجد نقویکراچی، ناظم آباد میں مجلس عزا کے دوران تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ، چھ افراد شہید، متعدد زحمیکراچی، تکفیری دہشتگردوں نے خواتین کی مجلس عزا کے باہر موجود مردوں کو نشانہ بنایافوجی آمر پرویز مشرف نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کو دوام دیتے ہوئے بغیر ثبوت و شواہد کے تحت تحریک جعفریہ پر پابندی لگائی، علامہ ساجد نقویڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم داعش کے 8 دہشتگرد ہلاک، 3 فرار
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 20:44
Share/Save/Bookmark
متنازعہ فوج کی سربراہی راحیل شریف کی نیک نامی کیلئے خطرناک ہے، علامہ ناصر عباس جعفری
متنازعہ فوج کی سربراہی راحیل شریف کی نیک نامی کیلئے خطرناک ہے، علامہ ناصر عباس جعفری
 
 
سینیٹ میں وزیر دفاع کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ حکومتی ذمہ داران کے متضاد بیان اس حقیقت کا عکاس ہیں کہ یہ ملک بٖغیر کسی داخلی و خارجی پالیسی کے چل رہا ہے، وطن عزیز کو غیر محسوس طریقے سے تنہا کیا جا رہا ہے۔
 
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے سینیٹ کو دی جانے والی بریفنگ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار روز قبل وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ایسی تقرری سے قبل حکومت اور جی ایچ کیو سے اجازت لی جاتی ہے۔ جس کی باضابطہ کلیرنس دی گئی ہے اور حکومت کو اس معاملے مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے۔ یہ سارے معاملات پاکستان میں طے کئے گئے، جن میں وزیراعظم نواز شریف بھی شامل تھے۔ اب وزیر دفاع کے یوٹرن نے پوری قوم کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔ وزیر موصوف کا سینیٹ میں یہ بیان کہ جنرل راحیل نے حکومت یا جی ایچ کیو سے نہ ہی کوئی این او سی حاصل کیا اور نہ اس کے لئے درخواست دی حیران کُن ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سرتاج عزیز کے اس بیان نے مزید ابہام پیدا کر دیا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے راحیل شریف کو کوئی آفر نہیں آئی۔ حکومتی ذمہ داران کے متضاد بیان اس حقیقت کے عکاس ہیں کہ یہ ملک بٖغیر کسی داخلی و خارجی پالیسی کے چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں لاعلم نہیں بلکہ پوری قوم کو لاعلم رکھنا چاہتی ہے۔ وطن عزیز کو غیر محسوس طریقے سے تنہا کیا جا رہا ہے۔ عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کو مسلم ممالک کے سامنے متنازعہ بنانے کی اس مذموم کوشش کو ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو درک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف ملک کے سابق فوجی سربراہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو فیصلہ کن انداز میں لڑ کر بہترین نام کمایا ہے۔ وہ اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ دہشت گردی میں ملوث کالعدم جماعتوں کو پاکستان میں کون سپورٹ کرتا ہے اور کس ملک کے نظریات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی متنازعہ اتحادی فوج کی سربراہی راحیل شریف کی نیک نامی کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہا اس معاملے میں غیر سنجیدہ بیانات دینے کی بجائے حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔
 
خبر کا کوڈ: 599236