پاراچنار بڑی تباہی سے بچ گیا، افغانستان سے آنے والی بارود سے بھری گاڑی پر بورکی بارڈر کے قریب فورسز کی فائرنگ، گاڑی دھماکے سے تباہکرم ایجنسی کے قریب افغانستان کے علاقے نری کنڈوں پر امریکی جیٹ طیاروں کی بمباری 16 افغان طالبان ہلاک، کئی شدید زخمی، افغان ذرائعپاراچنار بم دھماکے کا ایک اور زخمی کفایت حسین شہید ہوگیا، یوں بم دھماکے کے شہداء کی تعداد 26 ہوگئیپاراچنار، افغانستان کی سرحدی علاقے سے پاراچنار کے نواحی علاقوں پر یکے بعد دیگرے دو میزائل فائرپارا چنار پھر لہو لہو، امام بارگاہ کے قریب زوردار دھماکہ، خواتین و بچوں سمیت 22 افراد شہید، 55 سے زائد زخمیپاراچنار، دھماکہ کیخلاف احتجاج کرنیوالے مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ، 2 افراد شہید، 9 زخمیپاراچنار، پاک افغان سرحد پر متھہ سنگر کے قریب ڈرون حملہ، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاری
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 20:06
Share/Save/Bookmark
راحیل شریف کو 39 ممالک کی مشترکہ فوج کا سربراہ بننے کی کوئی پیشکش نہیں، سرتاج عزیز
راحیل شریف کو 39 ممالک کی مشترکہ فوج کا سربراہ بننے کی کوئی پیشکش نہیں، سرتاج عزیز
 
 
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اتحادی افواج کی سربراہی حساس معاملہ ہے۔ ایران اور چند دیگر ممالک کو اتحاد سے باہر رکھا جارہا ہے۔ ایران نے بھی ایسا اتحاد بنا لیا تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔؟
 
اسلام ٹائمز۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے متعلق بیان پر یوٹرن لے لیا۔ سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع بولے کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے اسلامی ممالک کی فوج کی کمان سنبھالنے کی باتیں میڈیا سے سنی ہیں۔ راحیل شریف کی جانب سے سعودی عرب میں کام کرنے کے حوالے سے این او سی کے لئے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے 39 ملکی فوجی اتحاد کی سربراہی سنبھالنے کی خبروں پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا پہلا موقف تھا کہ منظوری لی گئی اور ایسے معاملات میں کلیئرنس بھی ہوتی ہے۔ خواجہ آصف کے بیان پر معاملہ میڈیا میں آیا تو سینیٹ نے بھی حکومت سے وضاحت طلب کرلی۔ ایوان بالا میں وزیر دفاع اپنے انٹرویو کا دفاع نہ کرسکے اور سارا مدعا میڈیا میں آنے والی خبروں پر ڈال دیا۔ سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے خواجہ آصف بولے کہ جنرل راحیل کی جانب سے اسلامی ممالک کی فوج کی کمان سنبھالنے کی بات ابھی تک حکومت کے نوٹس نہیں آئی۔ سابق سپہ سالار نے اس معاملے میں این او سی کیلئے درخواست دی تو قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی دعوت پر عمرہ ادا کرنے گئے تھے اور دو روز قبل وطن واپس آچکے ہیں۔

چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے استفسار کیا کہ کیا راحیل شریف نے آرمی سے اس معاملے پر اجازت طلب کی ہے؟ اس پر بھی خواجہ آصف کا جواب نفی میں تھا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ راحیل شریف کو 39 ممالک کی مشترکہ فوج کا سربراہ بننے کی کوئی پیشکش نہیں۔ سابق آرمی چیف نے درخواست دی تو دیکھا جائے گا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسلامی اتحادی افواج میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، جو اب بھی برقرار ہے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اتحادی افواج کی سربراہی حساس معاملہ ہے۔ ایران اور چند دیگر ممالک کو اتحاد سے باہر رکھا جا رہا ہے۔ ایران نے بھی ایسا اتحاد بنا لیا تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟، چیئرمین سینیٹ نے وزیر دفاع کو ہدایت کی کہ اگر سابق آرمی چیف سعودی عرب میں کام کرنے کیلئے این او سی کی درخواست دیں تو ایوان کو آگاہ کیا جائے۔
 
خبر کا کوڈ: 599226