بڑے نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے سے لوگوں کو بے انتہا تکلیف پہنچی ہے، راہل گاندھی

11 Jan 2017 - 21:23

نئی دہلی میں ایک سیمینار سے خطاب میں کانگریس پارٹی کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ بھاجپا حکومت کا ایک ایسا فیصلہ تھا جس کی وجہ سے ریزرو بینک آف انڈیا کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم اور آر ایس ایس پر یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی وجہ سے تمام ادارے کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں اور اس طرح ملک کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔


اسلام ٹائمز۔ بھارت کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے عین پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر اپنا حملہ تیز کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج کہا کہ بڑے نوٹوں کی منسوخی کے نریندر مودی کے فیصلے سے ملک بھر میں لوگوں کو بے انتہا تکلیف پہنچی ہے اور دنیا بھر میں ان کے اس اقدام کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک روزہ ’’جن ویدنا سیمینار‘‘ میں اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ’’بھارت کے کسی بھی وزیراعظم نے کبھی اس قدر نامناسب اور ناقص سوچ کے نتیجے میں سامنے آنے والے فیصلہ پر عمل نہیں کیا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ کانگریس پارٹی نے نئی دہلی میں پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کی منسوخی سے عام آدمی کو ہونے والی پریشانیوں اور تکالیف کو اجاگر کرنے کے لئے یہ سیمینار طلب کیا تھا۔

سیمینار سے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ یہ بھاجپا حکومت کا ایک ایسا فیصلہ تھا جس کی وجہ سے ریزرو بینک آف انڈیا کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم اور آر ایس ایس پر یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی وجہ سے تمام ادارے کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں اور اس طرح ملک کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی ڈھائی سال قبل بلند بانگ دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے لیکن وہ کوئی انقلاب برپا نہیں کر پائے۔ اس دوران سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے بڑے نوٹوں کی منسوخی پر بھاجپا حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اچھے دن تو دور کی بات ہے، ابھی تو اور برے دن آنے باقی ہیں۔


خبر کا کوڈ: 599208

خبر کا ایڈریس: http://islamtimes.org/ur/doc/news/599208/

اسلام ٹائمز
  http://islamtimes.org