پاراچنار بم دھماکے کا ایک اور زخمی کفایت حسین شہید ہوگیا، یوں بم دھماکے کے شہداء کی تعداد 26 ہوگئیپاراچنار، افغانستان کی سرحدی علاقے سے پاراچنار کے نواحی علاقوں پر یکے بعد دیگرے دو میزائل فائرپارا چنار پھر لہو لہو، امام بارگاہ کے قریب زوردار دھماکہ، خواتین و بچوں سمیت 22 افراد شہید، 55 سے زائد زخمیپاراچنار، دھماکہ کیخلاف احتجاج کرنیوالے مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ، 2 افراد شہید، 9 زخمیپاراچنار، پاک افغان سرحد پر متھہ سنگر کے قریب ڈرون حملہ، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاریچوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کو مزید مشکوک کر دیا، جلسے کی اجازت نہیں تھی تو سکیورٹی کیوں دی گئی؟ ملک عامر ڈوگرحکمران اور سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، علامہ ساجد نقوی
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 21:23
Share/Save/Bookmark
یہ وقت کشمیریوں کیساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل کرنے کا ہے، حکیم محمد یاسین
یہ وقت کشمیریوں کیساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل کرنے کا ہے، حکیم محمد یاسین
 
 
مقبوضہ کشمیر کے گورنر این این وہرا کے خطبے پر پیش کی گئی شکریہ کی تحریک پر بولتے ہوئے حکیم محمد یاسین نے کہا کہ تاریخی معاملات کو چھوڑئے بلکہ اپنا محاسبہ کیجئیے کہ لوگوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ان کو کہاں تک پورا کیا گیا ہے۔
 
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ حکیم محمد یاسین نے کہا کہ یہ وقت ہلاکتوں پر اعداد و شمار گننے کا نہیں ہے، بلکہ وہ وعدے پورے کئے جائیں جو الیکشن اور اس کے بعد حکومت کے قیام پر کئے گئے تھے۔ مقبوضہ کشمیر کے گورنر این این وہرا کے خطبے پر پیش کی گئی شکریہ کی تحریک پر بولتے ہوئے حکیم محمد یاسین نے کہا کہ تاریخی معاملات کو چھوڑئے بلکہ اپنا محاسبہ کیجئے کہ لوگوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ان کو کہاں تک پورا کیا گیا ہے۔ انہوں نے ریاست جموں و کشمیر کو درپیش مسائل خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے گورنر کے خطبے میں وضاحت سے ذکر نہ کئے جانے پر کہا کہ خطبے میں مبہم الفاظ میں باتیں کی گئیں، جن کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا خطبہ مبہم ہے اور یہ پتہ نہیں چلتا کہ کس کی طرف اشارہ ہے اور وہ کس کو مخاطب کر رہے ہیں۔ حکیم یاسین نے کہا کہ یہ وقت لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل کرنے کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنائی گئی، تو ہم مفتی سعید کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے مل کر حکومت بنا لیتے لیکن انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کام تو ہوتے رہیں گے لیکن ہمارا سب سے اہم مقصد مسئلہ کشمیر ہے، جس کا سیاسی حل نکالنا اشد ضروری ہے۔
 
خبر کا کوڈ: 599202