پاراچنار، پاک افغان سرحد پر متھہ سنگر کے قریب ڈرون حملہ، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاریچوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کو مزید مشکوک کر دیا، جلسے کی اجازت نہیں تھی تو سکیورٹی کیوں دی گئی؟ ملک عامر ڈوگرحکمران اور سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، علامہ ساجد نقویکراچی، ناظم آباد میں مجلس عزا کے دوران تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ، چھ افراد شہید، متعدد زحمیکراچی، تکفیری دہشتگردوں نے خواتین کی مجلس عزا کے باہر موجود مردوں کو نشانہ بنایافوجی آمر پرویز مشرف نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کو دوام دیتے ہوئے بغیر ثبوت و شواہد کے تحت تحریک جعفریہ پر پابندی لگائی، علامہ ساجد نقویڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم داعش کے 8 دہشتگرد ہلاک، 3 فرار
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 22:23
Share/Save/Bookmark
گلگت، نوید حسین کی نماز جنازہ مرکزی امامیہ جامع مسجد میں ادا کر دی گئی
گلگت، نوید حسین کی نماز جنازہ مرکزی امامیہ جامع مسجد میں ادا کر دی گئی
 
 
2006ء میں انسداد دہشتگردی جی بی کی عدالت کے جج جمشید جنجوعہ کے قتل کا الزام ان پر عائد کیا گیا جبکہ یہ اسوقت جیل میں تھے۔
 
اسلام ٹائمز۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں گذشتہ روز پھانسی کی سزا پانیوالے گلگت کے نوجوان نوید حسین کی نماز جنازہ مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت میں ادا کی گئی۔ معروف عالم دین اور خطیب حجت الاسلام آغا راحت حسین الحسینی کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نوید حسین کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور انکی مظلومانہ موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔ نماز جنازہ کے بعد انکے جسد خاکی کو انکے آبائی گاوں بارگو گلگت روانہ کر دیا گیا، جہاں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ انکی تدفین ہوگئی۔ جنازے کے شرکاء نے نوید حسین کی پھانسی کو جانبدارانہ اور ماورائے قانون قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ واضح رہے کہ گلگت میں آغا ضیاءالدین رضوی کی شہادت کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا اور یہ اسوقت سے ابتک جیل میں قید تھے۔ 2006ء میں انسداد دہشتگردی جی بی کی عدالت کے جج جمشید جنجوعہ کے قتل کا الزام ان پر عائد کیا گیا، جبکہ یہ اسوقت جیل میں تھے۔ اس سلسلے میں پولیس نے موقف اپنایا کہ نوید حسین نے جیل سے نکل کر جج کو قتل کرکے دوبارہ جیل میں پناہ لی ہے۔ اس بےبنیاد الزام پر انہیں پھانسی کی سزا سنا دی گئی اور گذشتہ روز انہیں پھانسی دی گئی۔
 
خبر کا کوڈ: 599194