پاراچنار، نئی سبزی منڈی میں دھماکہ، 12 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمیلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاریچوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کو مزید مشکوک کر دیا، جلسے کی اجازت نہیں تھی تو سکیورٹی کیوں دی گئی؟ ملک عامر ڈوگرحکمران اور سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، علامہ ساجد نقویکراچی، ناظم آباد میں مجلس عزا کے دوران تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ، چھ افراد شہید، متعدد زحمیکراچی، تکفیری دہشتگردوں نے خواتین کی مجلس عزا کے باہر موجود مردوں کو نشانہ بنایافوجی آمر پرویز مشرف نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کو دوام دیتے ہوئے بغیر ثبوت و شواہد کے تحت تحریک جعفریہ پر پابندی لگائی، علامہ ساجد نقویڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم داعش کے 8 دہشتگرد ہلاک، 3 فرارعمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کیلئے جو رقم تقسیم کی ہے کہیں وہ ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں استعمال نہ ہو، پیر محفوظ م
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 18:33
Share/Save/Bookmark
فقہی اختلافات فرقہ واریت نہیں، وزیر داخلہ اپنی معلومات درست کریں، سبطین سبزواری
فقہی اختلافات فرقہ واریت نہیں، وزیر داخلہ اپنی معلومات درست کریں، سبطین سبزواری
 
 
ایس یو سی پنجاب کے صدر کا کہنا تھا کہ شیعہ سنی، مالکی حنبلی،حنفی، جعفری کے درمیان فقہی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے سماجی تعلقات اور آپس میں شادیاں بھی ہیں۔ عید میلادالنبی اور عزاداری کے جلوسوں میں شیعہ سنی شریک ہوتے ہیں،اہلسنت فقیہہ امام مالک کے پیروکار بھی فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کی طرح نماز ہاتھ کھول کر پڑھتے ہیں، اس لئے اس بنیاد پر قتل و غارت گری کا تصور بھی ممکن نہیں، دہشتگردی باقاعدہ طور پر پھیلائی گئی۔
 
اسلام ٹائمز۔ بھال سیداں فتح جنگ میں ایک سال قبل دہشتگرد تنظیم کے کارندے اپنے ہی کلاس فیلوز کے ہاتھوں مقامی سکول میں شہید ہونیوالے میٹرک کے طالبعلم مزمل حسین شاہ شہید کی پہلی برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی دہشتگرد تنظیموں اور اسلامی مسالک کے درمیان اختلاف رائے کے بارے میں معلومات ناقص ہیں، شیعہ سنی اختلاف تاریخی اور صدیوں پرانے ہیں، اس کی بنیاد پر قتل و غارت گری نہیں ہوئی، فقہی اختلاف فرقہ واریت نہیں، فرقہ واریت اسلام کو کمزور کرنے کیلئے سازش کے تحت پھیلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ضرب عضب آپریشن کے اثرات کو برقرار رکھنے کیلئے دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانا ضروری ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کیخلاف فوج نے موثر کارروائی کی مگر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ شیعہ سنی، مالکی حنبلی،حنفی، جعفری کے درمیان فقہی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے سماجی تعلقات اور آپس میں شادیاں بھی ہیں۔ عید میلادالنبی اور عزاداری کے جلوسوں میں شیعہ سنی شریک ہوتے ہیں،اہلسنت فقیہہ امام مالک کے پیروکار بھی فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کی طرح نماز ہاتھ کھول کر پڑھتے ہیں، اس لئے اس بنیاد پر قتل و غارت گری کا تصور بھی ممکن نہیں، دہشتگردی باقاعدہ طور پر پھیلائی گئی۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور کو پاکستان اور دنیا بھر سے ختم کئے بغیر ترقی اور امن ممکن نہیں، شخصی آمریت کو طول دینے اور جہاد کے نام پر سرکاری سرپرستی میں بننے والی دہشتگرد تنظیموں کے خاتمے کے بغیر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوگا اور نہ ہی ضرب عضب آپریشن کامیاب۔

علامہ سبطین سبزواری نے مطالبہ کیا کہ 18 نومبر 2014ء سے سپریم کورٹ کی طرف سے تحریک جعفریہ پاکستان پر پابندی اٹھانے اور لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کی آرڈر شیٹ کی روشنی میں وزارت داخلہ ملکی سلامتی اور سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والی ٹی جے پی کی بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ ان کا کہنا تھاکہ بیلنس پالیسی کے تحت پرامن شہریوں اور علما کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے سے عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے،اسے واپس لیا جائے اور صرف دہشتگردوں تک محدود رکھا جائے۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا حکومت نے خود ہی خاتمہ کر دیا ہے، کہیں وجود نظر نہیں آتا، حکومتی وزراء دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی کا تاثر ختم نہیں کر سکے جس کی طرف سپریم کورٹ نے بھی اشارہ کیا ہے۔
 
خبر کا کوڈ: 599190