پاراچنار بڑی تباہی سے بچ گیا، افغانستان سے آنے والی بارود سے بھری گاڑی پر بورکی بارڈر کے قریب فورسز کی فائرنگ، گاڑی دھماکے سے تباہکرم ایجنسی کے قریب افغانستان کے علاقے نری کنڈوں پر امریکی جیٹ طیاروں کی بمباری 16 افغان طالبان ہلاک، کئی شدید زخمی، افغان ذرائعپاراچنار بم دھماکے کا ایک اور زخمی کفایت حسین شہید ہوگیا، یوں بم دھماکے کے شہداء کی تعداد 26 ہوگئیپاراچنار، افغانستان کی سرحدی علاقے سے پاراچنار کے نواحی علاقوں پر یکے بعد دیگرے دو میزائل فائرپارا چنار پھر لہو لہو، امام بارگاہ کے قریب زوردار دھماکہ، خواتین و بچوں سمیت 22 افراد شہید، 55 سے زائد زخمیپاراچنار، دھماکہ کیخلاف احتجاج کرنیوالے مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ، 2 افراد شہید، 9 زخمیپاراچنار، پاک افغان سرحد پر متھہ سنگر کے قریب ڈرون حملہ، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاری
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 18:00
Share/Save/Bookmark
سعودی عرب کی قیادت میں 34 رکنی اتحاد میں اہم مسلم ممالک کو شامل نہیں کیا گیا، سرفراز نقوی
سعودی عرب کی قیادت میں 34 رکنی اتحاد میں اہم مسلم ممالک کو شامل نہیں کیا گیا، سرفراز نقوی
 
 
آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ یہ فورس کوئی موثر فورس ثابت نہیں ہوگی کیونکہ مشرق وسطی میں مقیم مسلمان ممالک پہلے ہی اندرونی بیرونی خلفشار کا شکار ہیں۔ سرفراز نقوی کا کہنا تھا کہ یہ فورس صرف کاغذ پر موجود ہے بحیثیت پاکستانی ہم بہت سے سوالات کیساتھ ساتھ یہ جاننے سے بھی قاصر ہیں کہ فورس کس طرح سے آپریٹ کرے گی اگر کسی مسلمان ملک کو ضرورت ہوگی تو کیا یہ ان کی مدد کرے گی۔
 
اسلام ٹائمز۔ لاہور میں کارکنان کی حالات حاضرہ پر نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان سرفراز نقوی نے ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے 34 ممالک کے سعودی فوجی اتحاد کا سربراہ بننے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس اتحاد میں دہشتگردی کے شکار اور خطہ کے اہم مسلمان ممالک کو شامل نہیں کیا گیا تو پھر اس اتحاد کو دہشتگردی کیخلاف کیسے قرار دیا ہے۔ مرکزی صدر کا کہنا تھا یہ فورس کوئی موثر فورس ثابت نہیں ہوگی کیونکہ مشرق وسطی میں مقیم مسلمان ممالک پہلے ہی اندرونی بیرونی خلفشار کا شکار ہیں۔ سرفراز نقوی کا کہنا تھا کہ یہ فورس صرف کاغذ پر موجود ہے بحیثیت پاکستانی ہم بہت سے سوالات کیساتھ ساتھ یہ جاننے سے بھی قاصر ہیں کہ فورس کس طرح سے آپریٹ کرے گی اگر کسی مسلمان ملک کو ضرورت ہوگی تو کیا یہ ان کی مدد کرے گی البتہ سعودیہ کاغذی کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسی فورس بنا رہی ہے جس کا بنیادی کام آل سعود کا دفاع کرنا ہوگا۔

مرکزی صدر نے کہا کہ حکومت 34 ممالک کے فوجی اتحاد پر اپنے موقف کو واضح کرے پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہے ایسے کڑے وقت میں ایسے اقدامات ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہو سکتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو واضح کرے۔ سرفراز نقوی نے کہا کہ اس اتحاد میں شامل ممالک کی اکثریت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حامی ہے جبکہ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر ملت اسلامیہ کے حقیقی مسائل ہیں، اب تک اس عسکری اتحاد نے مسئلہ فلسطین کے حل پر بات نہیں کی اور نہ ہی اسرائیلی مظالم کے مقابلہ میں فلسطینیوں کی عسکری حمایت کا عندیہ دیا ہے، اس اتحاد کی طرف سے عالم اسلام کے قدیم ترین مسئلہ آزادی مسجد الاقصی و بیت المقدس کیلئے کسی لائحہ عمل کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔
 
خبر کا کوڈ: 599174
 
 
1


زوار حسین
Pakistan
1395-10-22 18:45:29
ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ (600017)