ہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاریچوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کو مزید مشکوک کر دیا، جلسے کی اجازت نہیں تھی تو سکیورٹی کیوں دی گئی؟ ملک عامر ڈوگرحکمران اور سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، علامہ ساجد نقویکراچی، ناظم آباد میں مجلس عزا کے دوران تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ، چھ افراد شہید، متعدد زحمیکراچی، تکفیری دہشتگردوں نے خواتین کی مجلس عزا کے باہر موجود مردوں کو نشانہ بنایافوجی آمر پرویز مشرف نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کو دوام دیتے ہوئے بغیر ثبوت و شواہد کے تحت تحریک جعفریہ پر پابندی لگائی، علامہ ساجد نقویڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم داعش کے 8 دہشتگرد ہلاک، 3 فرارعمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کیلئے جو رقم تقسیم کی ہے کہیں وہ ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں استعمال نہ ہو، پیر محفوظ م
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 19:08
Share/Save/Bookmark
قومی احتساب بیورو کرپٹ عناصر کے لیے پناہ بن کر رہ گیا ہے، بہادر خان جکھڑ
قومی احتساب بیورو کرپٹ عناصر کے لیے پناہ بن کر رہ گیا ہے، بہادر خان جکھڑ
 
 
جھنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے، سیاسی عدم استحکام جمہوریت، ملکی سلامتی اور بقا کے لیے سنگین خطرہ ہے، ملک میں لاقانونیت کی انتہاء ہوچکی ہے، یہ کیسا نظام رائج ہے کہ جس میں غریب افراد کو رشوت دینے پر مجبور ہے، سرمایہ دار، جاگیردار قرضے ہڑپ کر جائیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
 
اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی جھنگ کے امیر بہادر خان جکھڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کرپٹ عناصر کے لیے پناہ گاہ بن کر رہ گیا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ جھنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 45 سال کے دوران 280 ارب کے قرضے معاف کرائے گئے اور کرپشن کی بڑی بڑی داستانیں منظر عام پر آئیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں بلاتفریق احتساب کا عمل شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے دوران چار سوشل میڈیا ماہرین کا اغواء انتہائی قابلِ مذمت ہے، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے، ماورائے آئین و قانون اقدامات سے پوری قوم میں عدمِ تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، چاروں لاپتہ ہونے والے افراد کو جلد از جلد بازیاب کروانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے، یوں محسوس ہوتاہے کہ حکمران عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے، سیاسی عدم استحکام جمہوریت، ملکی سلامتی اور بقا کے لیے سنگین خطرہ ہے، ملک میں لاقانونیت کی انتہاء ہوچکی ہے، یہ کیسا نظام رائج ہے کہ جس میں غریب افراد کو رشوت دینے پر مجبور ہے، سرمایہ دار، جاگیردار قرضے ہڑپ کر جائیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل اسلامی شرعی نظام میں پنہاں ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ فرسودہ نظام سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے۔
 
خبر کا کوڈ: 599013