پاراچنار بڑی تباہی سے بچ گیا، افغانستان سے آنے والی بارود سے بھری گاڑی پر بورکی بارڈر کے قریب فورسز کی فائرنگ، گاڑی دھماکے سے تباہکرم ایجنسی کے قریب افغانستان کے علاقے نری کنڈوں پر امریکی جیٹ طیاروں کی بمباری 16 افغان طالبان ہلاک، کئی شدید زخمی، افغان ذرائعپاراچنار بم دھماکے کا ایک اور زخمی کفایت حسین شہید ہوگیا، یوں بم دھماکے کے شہداء کی تعداد 26 ہوگئیپاراچنار، افغانستان کی سرحدی علاقے سے پاراچنار کے نواحی علاقوں پر یکے بعد دیگرے دو میزائل فائرپارا چنار پھر لہو لہو، امام بارگاہ کے قریب زوردار دھماکہ، خواتین و بچوں سمیت 22 افراد شہید، 55 سے زائد زخمیپاراچنار، دھماکہ کیخلاف احتجاج کرنیوالے مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ، 2 افراد شہید، 9 زخمیپاراچنار، پاک افغان سرحد پر متھہ سنگر کے قریب ڈرون حملہ، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاری
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 11 January 2017 - 00:12
Share/Save/Bookmark
پروفیسر سلمان حیدر کو فالو کرنیوالی ویگو گاڑی راولپنڈی کیطرف گئی، چوہدری نثار
پروفیسر سلمان حیدر کو فالو کرنیوالی ویگو گاڑی راولپنڈی کیطرف گئی، چوہدری نثار
 
 
سینیٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ اغواء کے ایک واقعہ میں گھر والوں کو پیغام ملا کہ چند افراد کو بھیج رہا ہوں انہیں لیپ ٹاپ دیدیں، جس کے بعد سویلین ٹوپیاں پہنے دو افراد گھر میں آکر اہلخانہ سے لیپ ٹاپ لے گئے، لوگوں کو لاپتہ کرنا حکومتی پالیسی نہیں، ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
 
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کالعدم تنظیموں سے ملاقات کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے دور میں تو کالعدم تنظیمیں ایوان صدر آئیں، ان کے ساتھ بیٹھے، میرے پاس تو دفاع پاکستان کونسل آئی تھی۔ جس کی تصاویر بھی میرے پاس ہیں، فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ چوہدر ی نثار نے حالیہ دنوں میں لاپتہ ہونے والے چار افراد کے حوالے سے سینیٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اغوا کے 2 واقعات ہوئے۔ ایک کے گھر پیغام آیا کچھ لوگوں کو بھیج رہا ہوں، لیپ ٹاپ دیدیں۔ جس کے بعد سویلین ٹوپیاں پہنے 2 افراد گھر آکر اہل خانہ سے لیپ ٹاپ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنا حکومتی پالیسی نہیں، اغوا میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

چوہدری نثارعلی خان کا کہناتھا کہ 4 واقعات میں سے 3 پنجاب میں اور ایک اسلام آباد میں پیش آیا۔ تین ایف آئی آر پنجاب میں درج ہوئیں۔ سماجی کارکن سلمان حیدر کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے مدد ملی ہے، سلمان حیدر کی کار کو ایک ویگو گاڑی فالو کر رہی تھی، پھر وہ گاڑی غائب ہوئی، کچھ دیر بعد دوبارہ رونما ہوئی اور راولپنڈی کی طرف چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ ان واقعات کے پیچھے جو بھی ہے اس کا پیچھا کریں گے، کچھ شواہد ایسے ہیں جو ابھی ایوان کو نہیں بتا سکتا۔ چوہدری نثار کا کالعدم تنظیموں سے ملاقات کے حوالے سے سینیٹ میں کہنا تھا کہ پچھلے دور میں تو کالعدم تنظیمیں ایوان صدر آئیں، ان کے ساتھ بیٹھے، میرے پاس تو دفاع پاکستان کونسل آئی تھی۔ جس کی تصاویر بھی میرے پاس ہیں۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نہیں کھڑا کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کو دہشتگردی کے ساتھ نہیں جوڑا سکتا، فرقہ واریت تو 1300 سال سے چل رہی ہے۔ چوہدری نثار کے اس بیان پر اپوزیشن نے احتجاجاً سینیٹ سے واک آوٹ کیا۔
 
خبر کا کوڈ: 598956