پاراچنار، نئی سبزی منڈی میں دھماکہ، 12 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمیلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاریچوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کو مزید مشکوک کر دیا، جلسے کی اجازت نہیں تھی تو سکیورٹی کیوں دی گئی؟ ملک عامر ڈوگرحکمران اور سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، علامہ ساجد نقویکراچی، ناظم آباد میں مجلس عزا کے دوران تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ، چھ افراد شہید، متعدد زحمیکراچی، تکفیری دہشتگردوں نے خواتین کی مجلس عزا کے باہر موجود مردوں کو نشانہ بنایافوجی آمر پرویز مشرف نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کو دوام دیتے ہوئے بغیر ثبوت و شواہد کے تحت تحریک جعفریہ پر پابندی لگائی، علامہ ساجد نقویڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم داعش کے 8 دہشتگرد ہلاک، 3 فرارعمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کیلئے جو رقم تقسیم کی ہے کہیں وہ ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں استعمال نہ ہو، پیر محفوظ م
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Tuesday 10 January 2017 - 13:41
Share/Save/Bookmark
گلگت کے نوید حسین کو آج صبح پھانسی دیکر لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی
گلگت کے نوید حسین کو آج صبح پھانسی دیکر لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی
 
 
وارثین نے پھانسی کی سزاء سنانے کے بعد صدر پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے رحم کی اپیل کی تھی، جو مسترد ہوگئ اور آج تختہ دار سے نوید کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
 
اسلام ٹائمز۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں آج علی الصباح دہرے قتل کے ملزم کو پھانسی دے دی گئی۔ گلگت سے تعلق رکھنے والے ملزم نوید حسین پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج جمشید سمیت دو افراد کے قتل کا الزام تھا۔ ذرائع کے مطابق 2006ء میں انسداد دہشتگردی جی بی کی عدالت کے جج جمشید واک کر رہے تھے کہ کسی نے ان پر گولی اور موقع پر ہی جان بحق ہوگئے۔ اس قتل کے دوران نوید حسین گلگت جیل میں قیدی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جیل سے باہر آکر اے ٹی سی جج جمشید کو قتل کر کے دوبارہ جیل میں پناہ لی ہے۔ نوید حسین اور چند دیگر قیدیوں کو خطرناک قرار دیکر گلگت سے اسکردو جیل منتقل کر دئیے گئے۔ اسکردو جیل سے انہیں بھاگ نکلنے میں کامیابی ملی اور ایک عرصہ تک روپوش رہے۔ تاہم خفیہ اداروں نے انہیں کراچی سے دوبارہ گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ روپوشی کے دوران نوید حسین پر گلگت میں ایک اور فرقہ وارانہ قتل کا الزام عائد کیا گیا اور یوں دہرے قتل کا ملزم قرار دیا گیا۔ مذکورہ کیسز پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں پھانسی کی سزا سنا دی۔ وارثین نے پھانسی کی سزاء سنانے کے بعد صدر پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے رحم کی اپیل کی تھی، جو مسترد ہوگئی اور آج تختہ دار سے نوید کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد پر سات سال سے غیر اعلانیہ پابندی عائد تھی، تاہم 2014ء دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے کے بعد ختم کر دی گئی تھی۔ پابندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 250 سے زائد افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔
 
خبر کا کوڈ: 598779