ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا ایک اور واقعہ، دن دیہاڑے بھرے بازار میں امام بارگاہ کا متولی قتلامریکہ نے بیت المقدس کے حوالے سے متنازع اقدام اُٹھا کر اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے، سینیٹر حافظ حمداللہامریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر لیاڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنیکا اعلانیمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح قتل / مکمل کہانی جلد ہی صرف اسلام ٹائمز پر ۔ ۔ ۔اسرائیل کا دمشق کے قریب ایرانی فوجی اڈے پر حملہ"محبین اہلبیت (ع) اور تکفیریت" بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء کی رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقاتہم نے اپنی حکمت اور دانائی سے تکفیریت کو گندگی کے ڈھیر پر پہنچا دیا، ہم آج 28 جماعتوں کی سربراہی کر رہے ہیں، علامہ ساجد نقویبریکنگ نیوز / سعودی ولی عہد پر قاتلانہ حملہ / مکمل خبر اسلام ٹائمز پر ملاحظہ کریںلاپتہ افراد کے حق میں آواز اُٹھانا جُرم بن گیا، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر شیرازی کو اغواء کر لیا گیا
 
 
 

فطرت(6)

سیرت امام زین العابدین علیہ السلام اور مشکلات کا حل

سارے عالم کی وفا حضرت عباس (ع) ميں ہے۔۔۔۔

امام حسین علیہ السلام اور عزت و سربلندی

سیرت حضرت عباس علیہ السلام

حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام اور ثبات قدم

یا حبیبی یا حسین

حسین منی وانا من حسین  

امام حسین (ع) خانہء نبوت کا دمکتا ماہتاب

ان الحسین باب من ابواب الجنة

اہل بیت علیہم السلام نہج البلاغہ کی روشنی میں

فطرت(5)

نقوش حیات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم

فلسفہ بعثت پیغمبر اکرم ﷺ

بحران معنویت کا واحد حل سیرت پیغمبر (ص) کیطرف بازگشت

امام موسٰی کاظم (ع) کی سیرت میں توجہ طلب نکات

امام کاظم (ع) اور سخت ترین حالات میں غریبوں و ناداروں کی مسیحائی

تربیت اولاد کے انمول اصول

فطرت(3)

فطرت(2)

فطرت(1)

قیامت اور معاد کی حقیقت

کردار زینبی کی شناخت اور اپنانے کی ضرورت

جشن مولود کعبہ (ع) اور ہماری ذمہ داری

بے داغ سیاست کا حاکم کون؟

محترم مہینے اور ہماری ذمہ داری

حضرت امام محمد تقی (ع) کی مجاہدانہ زندگی

امام علی نقی (ع) اور ظالم حکمران

امام باقر العلوم (ع) اور حوزہ علمیہ کے طلاب

 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 21 March 2018 - 18:48
Share/Save/Bookmark
پاراچنار، یکطرفہ آبادکاری مہم کے بارے میں طوری قبائل کے تحفظات(1)
پاراچنار، یکطرفہ آبادکاری مہم کے بارے میں طوری قبائل کے تحفظات(1)
 
 
اسلام ٹائمز نے پاراچنار میں موجود تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین اور کونسل ممبر حاجی عابد حسین سے انکا موقف معلوم کیا تو دوٹوک الفاظ میں انکا کہنا تھا کہ انکے سربراہ علامہ عابد حسینی ایسی کوئی تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں، جس میں طوری بنگش اقوام کی بحالی سے صرف نظر کرکے، ملک دشمن اور افغانی الاصل قبائل کی بات ہو۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل انجمن حسینیہ کے حاجی نور محمد کے ساتھ بھی بات ہوئی ہے۔
 
تحریر: روح اللہ طوری

حکومت کی جانب سے کرم ایجنسی میں گزشتہ دہائی میں بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری مہم تو گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ تاہم نقل مکانی کرنے والے افراد میں سے اکثر خود کو اپنے آبائی علاقوں میں غیر محفوظ تصور کرکے دوبارہ وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔ جس کا ازالہ کرنے کے لئے صاحب سرکار نے صرف پاراچنار کی سطح پر بھرپور مہم چلا کر اسے متاثرین کے لئے پرامن ظاہر کرنے کی اپنے طور سے بھرپور کوشش کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے متعدد دھماکوں کے بعد پاراچنار شہر کے اس مخصوص علاقے کو ریڈ زون قرار دیا، جہاں سے لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ نیز اس سے بھی ایک قدم آگے سرکار نے پاراچنار کے ارد گرد خندق کھود کر باڑ لگادی۔ اور پھر ایک رنگ روڈ بھی تعمیر کی۔ تاکہ متاثرین کو یہ باور کرایا جاسکے کہ پاراچنار اب آپکے لئے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ تاہم نقل مکانی کرنے والوں کا مطالبہ ہے، کہ وہ اس وقت تک خود کو محفوظ خیال نہیں کریں گے۔ جب تک 1983 اور اس سے پہلے صدہ سے بے دخل شدہ طوری اقوام بحال نہیں ہوتے، کیونکہ کسی بھی ٹینشن کی صورت میں اہلیان پاراچنار صدہ میں آباد اپنی برادری کے لوگ یعنی طوری قبائل کی خاطر انکے خلاف کوئی انتقامی کاروائی کرنے سے گریزاں ہونگے۔ لیکن مقامی انتظامیہ بضد ہے کہ دیگر قبائل سے ہٹ کر، صرف پاراچنار سے بے دخل شدہ افغانی الاصل (منگل، مقبل اور جاجی وغیرہ) قبائل اور خانوادے پاراچنار تشریف لائیں۔ 

انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کے ساتھ حکومتی مذاکرات:

اس سلسلے میں حکومت کے اعلی عہدیداروں نے مقامی سطح پر قبائلی عمائدین خصوصا انجمن حسینیہ، تحریک حسینی وغیرہ کے مشران سے مذاکرات کے کئی دور کئے ہیں۔ جن کا مبینہ طور پر کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے۔ اس حوالے سے اسلام ٹائمز نے پاراچنار میں موجود تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین اور حاجی عابد حسین سے باری باری انکا موقف معلوم کیا۔ تو انکا دوٹوک انداز میں کہنا تھا کہ انکے سربراہ علامہ سید عابد حسین الحسینی، اور خود وہ ایسی کوئی تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں، جس میں طوری بنگش اقوام کی بحالی سے صرف نظر کرکے، ملک دشمن اور افغانی الاصل قبائل کی بات ہو۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل انجمن حسینیہ کے سیکریٹری حاجی نور محمد کے ساتھ بھی بات ہوئی ہے۔ اور انہیں اپنے موقف سے آگاہ کیا، تو انہوں نے بھی اس حوالے سے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے ہمیں ہر طرح سے تسلی دی۔ انہوں نے کہا کہ کل ہی کی بات ہے، کہ اس حوالے سے ہم نے بریگیڈئر صاحب کو مکمل طور پر بریف کیا اور اپنے تحفظات و مطالبات سے وضاحت کے ساتھ آگاہ کیا۔ جبکہ آج دوبارہ پاک فوج کے جرنیل صاحب سے ملاقات کے دوران بھی اپنے تحفظات و مطالبات کو بیان کرنے کے بعد اسے تحریرا بھی حوالے کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپکے تحفظات کیا ہیں تو انہوں نے اپنے تحفظات کی ایک طویل داستان بیان کی، جسے رشتہ تحریر میں لانا تو ممکن نہیں، تاہم اسے قارئین کی خدمت میں مختصرا پیش کرتے ہیں۔

طوری قبائل کے تحفظات:
صدر تحریک کا کہنا تھا، بریگیڈئر صاحب اور پی اے کرم نیز مختلف مواقع پر کرم ایجنسی میں دورہ پر آنے والے اعلی فوجی و سول افسران کو ہم نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے، وہ یہ کہ آباد کاری مہم یک طرفہ طور پر کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کی جائے گی۔ جب تک ہر فریق کو پورا پورا انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔ ہم نے بار بار واضح کیا ہے، اور آج بھی واضح کررہے ہیں کہ کرم ایجنسی کو اغیار سے، اندرونی اور بیرونی دشمنوں، خصوصا طالبان اور داعش سے بچانے، حتی کہ سرکاری اداروں کو تحفظ فراہم کرنے میں سب سے زیادہ اور کلیدی کردار طوری بنگش قبائل نے ادا کیا ہے۔ جبکہ دیگر قبائل نے تو شروع ہی سے پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔ بلکہ دوہری شہریت رکھنے کی وجہ سے ہمیشہ سرحد پار اپنے ہم نسب قبائل کے توسط سے پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشیں کی ہیں۔ اسکے باوجود ہماری نسبت آج دیگر اقوام خصوصا طالبان کو پناہ دینے والوں کو خصوصی توجہ اور فوقیت دی جارہی ہے۔ ہم نے آج بھی اپنے معزز مہمان جرنیل کو اپنی اس شکایت سے آگاہ کیا۔ 

طوری بنگش قبائل کی اراضی پر ناجائز قبضہ کا مسئلہ:
مولانا یوسف حسین کا کہنا تھا کہ ہم نے آج جرنیل صاحب کو یہ بھی گوش گزار کیا کہ یہاں موجود دیگر قبائل کے ساتھ انکا کوئی مذھبی اور فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں۔ بلکہ انکے ساتھ اراضی، شاملات اور پہاڑوں پر ناجائز قبضہ جات اور اسکی جائز ملکیت پر تنازعات چلے آرہے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جسے تاریخ، فلسفہ، قرآن مجید یا حدیث کی کتابیں پڑھنے کی ضرورت بھی نہیں، کہ کون حق پر ہے اور کون غلطی پر۔ بلکہ ان کا حل حکومت کے ایوانوں اور ریکارڈ میں موجود ہے۔ سرکاری آفس خانے میں کرم ایجنسی کی تمام اراضی، شاملات اور پہاڑوں کی ریکارڈ موجود ہے۔ جسے دو مرتبہ یعنی 1905 اور 1943ء میں وقت کی حکومتوں نے مرتب کیا ہے۔ چنانچہ حکومت اگر چاہے تو اسی کے مطابق حقدار تک اپنا اپنا حق پہنچا سکتی ہے۔ 
جاری ہے۔۔۔۔
 
خبر کا کوڈ: 712962