سعودی لڑاکا طیاروں کی کاروائی ، یمن میں ایک ہی خاندان کے ۹ افراد جاں بحقکرم ایجنسی میں ڈرون حملہ، 3 دہشت گرد ہلاکبرما کے بے گھر مسلمانوں کیلئے ایران کا امدادی کاروان روانہ / آج پہلی امدادی کھیپ بنگلہ دیش روانہ کر دی گئیایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے روس کا دورہ کیا / سوچی میں ولادیمیر پوٹین سے ملاقاتبرما کے مسئلہ کا حل مسلمان ممالک کی عملی مداخلت سے حل ہو گا، رہبر معظم انقلاب اسلامیرہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اب سے چند گھنٹے پہلے اپنے درس فقہ میں برما کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی شدید الفاظ میں شامی فوج اور مقاومتی فورسز کی پیشقدمی، دیرالزور کا فوجی ہوائی اڈہ آزادوزیر خارجہ پاکستان کی جناب آقای روحانی صدر جمہوری اسلامی ایران سے ملاقات / دو جانبہ مسائل پر گفتگوخواجہ آصف کی ایران آمد / وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقاتشام صوبہ دیرالزور سے داعش کا مکمل خاتمہ / متحدہ فورسز کا جبل الثردہ پر کنٹرول
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 16 August 2017 - 19:50
Share/Save/Bookmark
مغوی سعودی شہزادے
مغوی سعودی شہزادے
 
 
اسلام ٹائمز: یمن پر جاری دو سالہ سعودی جارحیت، 2011ء سے بحرین کے عوام پر جاری خلیجی ریاستوں کے مظالم، قطیف، شرقیہ، دمام اور عوامیہ کے لوگوں پر روا رکھا جانیوالا ظلم، مصر میں اخون المسلمین کی حکومت کے خاتمہ کیلئے اقدامات، خطے میں جاری دہشتگردی کے واقعات سے ربط، قطر کیخلاف بے جا پابندیاں، اپنے ہی خاندان کے شہزادوں جو نظام کیخلاف ہوچکے ہیں، کا اغوا اور انکی نظر بندی سعودی نظام کی حکمت عملی اور طرز حکومت کو بیان کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہ ابھی برف کا وہ حصہ ہے جو سمندر سے باہر نظر آرہا ہے۔ سمندر کے نیچے کا حصہ ابھی تک میڈیا کی خاموشی، آزاد میڈیا کی نارسائی، خلیجی ریاستوں کی یورپ اور امریکا میں سرمایہ کاری اور اتحادوں کے پردوں تلے غرق ہے۔
 
تحریر: سید اسد عباس

گذشتہ دنوں بی بی سی کی اردو اور انگریزی ویب سائٹ نیز کئی ایک دیگر مغربی ذرائع ابلاغ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ تین سعودی شہزادے جو کسی نہ کسی سبب بیرون ملک مقیم تھے، اچانک اپنی رہائش گاہوں سے غائب ہوئے اور آج تک ان کے بارے کوئی معلومات نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ یہ وہ شہزادے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے اپنا ملک چھوڑنے میں کامیاب ہوئے جبکہ وہ شہزادے جن کو پہلے ہی دھر لیا گیا، ان کی کہانی تاحال ایک معمہ ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں معزول ہونے والے ولی عہد محمد بن نائف کے بارے میں اطلاعات سامنے آئیں کہ انہیں معزول کرنے کے بعد کسی محل میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ مغربی ادارے یوں اچانک سعودی شہزادوں کے اغواء کی جانب کیوں متوجہ ہوئے، یہ امر بھی تشویشناک ہے۔ مغربی حکومتوں کو جب بھی سعودی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور اس سے’’ھل من مزید‘‘ کا مطالبہ کرنا ہو تو وہ ایسی ہی رپورٹیں منظر عام پر لاتے ہیں اور پھر کام نکلنے کے بعد خاموشی کا روزہ رکھ لیا جاتا ہے۔ یوں ان کی صداقت کا بھرم بھی رہ جاتا ہے اور مطلوبہ مقصد بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ مغربی میڈیا کبھی بھی ایران کی مانند خلیجی ریاستوں کے خلاف پراپیگنڈہ نہیں کرتا بلکہ اس کا پراپیگنڈہ یا انکشافات ہمیشہ کسی مقصد تک پہنچنے کا وسیلہ ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال مسلم امہ کے لئے نہایت تشویشناک ہے کہ ان کے اہم ترین مرکز پر ایسے لوگ تعینات ہیں، جو استعمار کے ہاتھوں کا کھلونا ہیں۔ وہ انہیں جیسے چاہے اور جب چاہے توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لے۔ ان کے راز، ان کی سازشیں، ان کے وسائل سب مغرب کے تصرف میں ہیں۔ کسی نے تھوڑی سی اکڑ دکھائی نہیں اور سارا کیا کرایا باہر۔

اب لوٹتے ہیں بی بی سی کی انتہائی تہلکہ خیز رپورٹ کی جانب، جس کے مطابق گذشتہ دو سالوں میں یورپ میں رہنے والے تین سعودی شہزادے لاپتہ ہوچکے ہیں۔ یہ تینوں شہزادے ماضی میں سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان کی گمشدگی کے بارے میں ایسے شواہد ہیں، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اغوا کرکے سعودی عرب لے جایا گیا اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ سؤٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں 12 جون 2003ء کو ایک سعودی شہزادے کو جینیوا سے باہر ایک محل لے جایا گیا۔ اس شہزادے کا نام سلطان بن ترکی بن عبدالعزیز ہے اور اسے جس محل میں لے جایا گیا وہ اس کے رشتے دار، سعودی عرب کے سابق حکمران شاہ فہد کی ملکیت ہے۔ سلطان بن ترکی بن عبدالعزیز کو شاہ فہد کے بیٹے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد نے ناشتے پر مدعو کیا۔ عبدالعزیز بن فہد نے سلطان بن ترکی سے درخواست کی کہ وہ سعودی عرب واپس لوٹ جائیں، تاکہ سعودی حکمرانوں کے خلاف ان کی جانب سے کی گئی تنقید اور خدشات کو دور کیا جا سکے، مگر سلطان بن ترکی نے یہ درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر عبدالعزیز بن فہد فون کرنے کے بہانے سے کمرے سے باہر گئے اور کمرے میں موجود دوسرے فرد، سعودی عرب کے وزیر برائے اسلامی امور شیخ صالح الشیخ بھی باہر چلے گئے۔ ان دونوں کے جاتے ہی چند افراد کمرے میں داخل ہوگئے اور سلطان بن ترکی کو زد و کوب کیا اور اس کے بعد انہیں ہتھکڑی پہنا کر ان کی گردن میں انجیکشن لگا دیا۔ اس بے ہوشی کی حالت میں سلطان بن ترکی کو جینیوا ایئر پورٹ لے جایا گیا، جہاں سے انہیں جہاز پر سوار کرا دیا گیا۔

یہ تمام قصہ سلطان بن ترکی نے اغوا ہونے کے کئی سال بعد سوئس عدالت میں بیان کیا تھا۔ اس وقت سلطان بن ترکی کے لئے کام کرنے والوں میں سے ان کے افسر برائے اطلاعات ایڈی فریرا نے بعد میں بتایا کہ جس روز سلطان ناشتے کے لئے گئے تھے، وہ دن بتدریج مشکل ہوتا چلا گیا۔ ہم سلطان کی سکیورٹی ٹیم سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے، جس سے ہمیں شک پڑا کے معاملہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہم نے شہزادے سے رابطہ کرنے کی بار بار کوشش کی لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں مقیم سعودیہ کے دوسرے شہزادے شہزادہ ترکی بن بندر سعودی پولیس میں اہم مقام رکھتے تھے اور سعودی خاندان پر نظر رکھنا ان کی ذمہ داری تھی، لیکن وراثت کے معاملے پر جھگڑے کی وجہ سے ان کو جیل جانا پڑا، جہاں سے انہیں 2012 میں رہائی ملی۔ رہائی کے فوراً بعد وہ پیرس چلے گئے، جہاں سے انہوں نے انٹرنیٹ پر یوٹیوب کی ویب سائٹ پر سعودی عرب میں تبدیلیوں کی مطالبے کی ویڈیوز شائع کرنا شروع کر دیں۔ سعودی حکومت نے ان کے خلاف بھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کی، جیسا شہزادہ سلطان بن ترکی کے ساتھ کیا تھا۔ وزارت داخلہ کے نائب وزیر احمد ال سالم نے جب شہزادہ ترکی بن بندر کو واپس بلانے کے لئے فون کیا تو شہزادے نے وہ گفتگو ریکارڈ کر لی اور اسے انٹرنیٹ پر جاری کر دیا۔ اس گفتگو میں احمد ال سالم کہتے ہیں کہ ہم سب آپ کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں، خدا آپ کا بھلا کرے۔ جواب میں شہزادہ ترکی بن بندر نے کہا: میری واپسی کا انتظار؟ تو ان سب خطوط کے بارے میں کیا کہو گے جو مجھے بھیجے اور جن میں لکھا ہوا تھا کہ میں فاحشہ کی اولاد ہوں اور تم لوگ مجھے بھی ویسے ہی گھسیٹ کر لے جاؤ گے، جیسے شہزادہ سلطان بن ترکی کو لے گئے تھے۔ شہزادہ ترکی بن بندر جولائی 2015ء تک ویڈیوز شائع کرتے رہے لیکن اسی سال وہ غائب ہوگئے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسی برس سعود بن سیف کو اغوا کیا گیا، 2014ء میں اس شہزادے نے اپنی حکومت کے خلاف ٹویٹس کئے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر مرسی کا تختہ پلٹنے والے افسران کے خلاف اقدام کیا جائے۔ آل سعود خاندان کے چوتھے فرد شہزادہ خالد اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں اور انہیں اس بات کا یقین ہے کہ ایک روز بقیہ تین شہزادوں کی مانند انہیں بھی سعودیہ لے جایا جائے گا۔ یہ رپورٹ یورپ میں بسنے والے آل سعود کے چند شہزادوں کے حالات اور ان کے اغوا کے واقعات پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔ وہ شہزادے جو سعودیہ میں رہتے ہوئے غلام گردشوں اور نظر بندیوں کا نشانہ بنے، ان کے بارے اطلاعات تو سامنے آتی ہیں، تاہم تصدیق ممکن نہیں۔ وہ نظام جو اپنے ہی خاندان کے افراد جو نظام مخالف ہوگئے، کے ساتھ اس قسم کے اوچھے اور قبیح حربے آزما رہا ہے، اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین اور غیر مکتب کے افراد کے ساتھ کیا رویہ روا رکھے ہوئے ہوگا۔ اب اگر عوامیہ، شرقیہ، دمام، بحرین اور یمن کے افراد شکوہ کریں کہ سعودی حکومت اور ان کے کاسہ لیسوں کی جانب سے ہمیں عقوبت کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا وہ یہ کہیں کہ سکیورٹی ادارے ہمارے بچوں کو اغوا کرتے ہیں اور ان پر تشدد کے بعد لاشیں پھینک جاتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے؟ کیا اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد کسی ثبوت کی گنجائش رہ جاتی ہے۔؟

یمن پر جاری دو سالہ سعودی جارحیت، 2011ء سے بحرین کے عوام پر جاری خلیجی ریاستوں کے مظالم، قطیف، شرقیہ، دمام اور عوامیہ کے لوگوں پر روا رکھا جانے والا ظلم، مصر میں اخون المسلمین کی حکومت کے خاتمہ کے لئے اقدامات، خطے میں جاری دہشتگردی کے واقعات سے ربط، قطر کے خلاف بے جا پابندیاں، اپنے ہی خاندان کے شہزادوں جو نظام کے خلاف ہوچکے ہیں، کا اغوا اور ان کی نظر بندی سعودی نظام کی حکمت عملی اور طرز حکومت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ ابھی برف کا وہ حصہ ہے جو سمندر سے باہر نظر آرہا ہے۔ سمندر کے نیچے کا حصہ ابھی تک میڈیا کی خاموشی، آزاد میڈیا کی نارسائی، خلیجی ریاستوں کی یورپ اور امریکا میں سرمایہ کاری اور اتحادوں کے پردوں تلے غرق ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں لاکھ واویلا کریں کہ یمن، بحرین اور سعودیہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، کہیں شنوائی نہیں۔ اقوام عالم اس ظلم کے سامنے انگشت بدنداں تو ہیں، تاہم کسی کو کچھ کہنے کا یارا نہیں۔ ہاں مگر خالق کائنات مظلوموں کی پکار کو ضرور سنتا ہے اور اس کی پکڑ جلد یا بدیر ظالموں کو اپنے منطقی انجام تک پہنچا کر رہتی ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
 
خبر کا کوڈ: 661854