ہر دور کے حکمرانوں نے سرائیکی وسیب کی محروم عوام کا استحصال کیا، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی نہ ہونیکے برابر ہے، علامہ ناصر عباسلودھراں کے قریب 2 رکشے ٹرین کی زد میں آگئے، 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحقکراچی، فرید اور زکریا ایکسپریس میں تصادم، 17 افراد جاں بحق، ریسکیو کا کام جاریچوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کو مزید مشکوک کر دیا، جلسے کی اجازت نہیں تھی تو سکیورٹی کیوں دی گئی؟ ملک عامر ڈوگرحکمران اور سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، علامہ ساجد نقویکراچی، ناظم آباد میں مجلس عزا کے دوران تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ، چھ افراد شہید، متعدد زحمیکراچی، تکفیری دہشتگردوں نے خواتین کی مجلس عزا کے باہر موجود مردوں کو نشانہ بنایافوجی آمر پرویز مشرف نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کو دوام دیتے ہوئے بغیر ثبوت و شواہد کے تحت تحریک جعفریہ پر پابندی لگائی، علامہ ساجد نقویڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم داعش کے 8 دہشتگرد ہلاک، 3 فرارعمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کیلئے جو رقم تقسیم کی ہے کہیں وہ ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں استعمال نہ ہو، پیر محفوظ م
 
 
 
 
 
 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Sunday 8 January 2017 - 19:32
Share/Save/Bookmark
نیب کا ادارہ اور اداروں کے نواب
نیب کا ادارہ اور اداروں کے نواب
 
 
کوئٹہ سے آگے نکلیں تو جگہ جگہ چیک پوسٹوں پر ایف سی والے لوگوں کی توہین کرتے اور رشوت وصول کرتے نظر آتے ہیں۔کسی کو پوچھ گچھ کا کوئی خطرہ نہیں،ہر کسی نے لوٹنے کے لئے چند بہانے تیار کررکھے ہیں۔جب تک یہ بہانے چلتے رہیں گے کرپشن چلتی رہے گی۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ نیب کا ادارہ عوام کے درد کو محسوس کرے اور عوام کے ذریعے کرپٹ عناصر کا سراغ لگائے۔ جہاں پر عوام کے ذریعے کرپٹ لوگوں کا سراغ لگانا ضروری ہے وہاں عوام کو کرپشن سے آگاہی اور کرپشن کے خلاف بولنے کا شعور دینا بھی ضروری ہے۔
 
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

کرپشن تہذیب کی دشمن ہے۔ہر مہذب انسان کرپشن سے نفرت کرتا ہے۔ پاکستان میں کرپشن کرنے والے اور کرپشن سے نفرت کرنے والے دونوں طرح کے لوگ موجود ہیں۔ چنانچہ پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے نیب کے نام سے ایک ادارہ بھی موجود ہے۔ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود نیب کا ادارہ ہمارے لئے ایک غنیمت ہے۔ تاہم دیگر اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی نوابوں،جاگیرداروں اور زرداروں کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ پاکستان میں جہاں ہر طرف طاقتور کی حکمرانی ہے اور غریب و کمزور ہونا جرم بن گیا ہے وہاں نیب جیسے ادارے کا نام کسی نہ کسی حد تک امید کی کرن دکھا ہی دیتا ہے۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جب غریب اور کمزور لوگ بے شعور بھی ہوں تو پھر ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں عوام کی بے شعوری کا یہ عالم ہے کہ اگر 12 ارب سے زیادہ کا فراڈ کرنے والے ڈبل شاہ کی طرح کا کوئی کرپٹ شخص نیب کے ذریعے جیل میں چلا بھی جائے تو رہائی کے موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کا استقبال کرتی ہے اور ایک جلوس کی صورت میں اسے رہائش گاہ تک لایا جاتا ہے۔

اس ملک میں ہزاروں چور دروازے ہیں اور ہر چور دروازے پر ایک نواب بیٹھا ہوا ہے اور ہر نواب کے پیچھے لاکھوں بے شعور لوگوں کا جم غفیر موجود ہے۔ ابھی کل کی خبر ہے کہ پاکستان میں سینکڑوں پاسپورٹوں میں غلطیاں ہیں، جن کی وجہ سے عمرے پر جانے والے لوگوں کے ویزے نہیں لگ سکے، لوگوں نے پاسپورٹ آفس میں رابطہ کیا تو انہیں کہا گیا کہ دوبارہ فیس جمع کروا کر نئے پاسپورٹ بنوا لیں، اسی طرح ایک صاحب نے بتایا ہے کہ وہ تہران میں قائم پاکستان ایمبیسی میں بچے کا پاسپورٹ بنوانے کی فیس جمع کروانے کے بعد چار سال تک چکر لگاتے رہے، چار سال کے بعد جب پاکستان گئے اور وہاں پاسپورٹ آفس میں رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں چار ہزار روپے دیں اور پاسپورٹ لے لیں۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ لوگ پریشان حال مارے مارے پھرتے ہیں لیکن کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ایک پاسپورٹ آفس میں تو اس طرح ہوتا تھا کہ سائل کے فارم کو دیکھتے ہی بڑے صاحب ایک دو غلطیاں نکال کر کہتے تھے کہ آپ کا تو پاسپورٹ بن ہی نہیں سکتا، یہ سنتے ہی خصوصا وہ سائل جسے پاسپورٹ بنوانے کی جلدی ہو، پریشان ہو کر فوراً منتیں ترلے کرنے شروع کر دیتا تھا، کچھ دیر بعد بڑے صاحب اسے کہتے تھے کہ اچھا آپ نہیں چھوڑتے تو چلیں جائیں یہ ساتھ والے کمرے میں جو صاحب بیٹھے ہیں ان سے بات کریں وہ آپ کو کوئی راہِ حل بتائیں گے۔

جب چند لوگوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تو ایک دم میرے کان کھڑے ہو گئے کہ یہ ساتھ والے کمرے میں آخر کونسا مشکل کشا بیٹھا ہوا ہے! جب میں ساتھ والے کمرے میں گیا تو وہاں موجود صاحب ہر شخص کا فارم دیکھ کر افسوس کرتے تھے کہ آپ کا کام تو بہت مشکل ہے اور پھر انتہائی رازدارانہ لہجے میں کہتے تھے کہ میرے پاس فقط ایک راہ حل ہے شاید اس سے کچھ ہوجائے۔ سائل فوراََ اچھل پڑتا تھا جی بتائیے !میں ضرور اس پر عمل کروں گا۔ وہ صاحب سائل کو ایک اکاونٹ نمبر دیتے تھے کہ جاو، یہ ساتھ والے بینک میں اتنے ہزار ڈال کر آجاو اور رسید مجھے دے دو۔ وہ شخص خوشی کے مارے دوڑ کر جاتا تھا اور اس اکاونٹ میں پیسے ڈال کر اللہ کا شکر ادا کرتا تھا کہ میرا مسئلہ حل ہونے والا ہے۔ اس کے بعد اس کا فارم جمع ہو جاتا تھا اور پھر وہ پاسپورٹ فیس جاکر دوسرے اکاونٹ میں جمع کرواتا تھا۔

ابھی آئیے لودھراں میں ٹرین حادثے کی بات کرتے ہیں، جہاں ٹرینوں کے ڈرائیوروں نے احتجاجاََ استعفے دے دئیے ہیں۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی حادثہ پیش آتاہے تو اصلی ذمہ داروں کو پکڑنے کے بجائے نچلے طبقے کے کسی شخص کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریل کی پٹڑی پر چلانے کے لئے جو پٹاخوں کی رقم ملتی ہے وہ اعلی ٰ حکام خود ہی ہڑپ کر جاتے ہیں۔ اب چلئے ذرا کوئٹہ کی بھی بات کرتے ہیں، جہاں کتنے ہی عرصے سے مسافروں کی چیخیں نکل رہی ہیں، کچھ مخصوص لوگ ہیں جو مسافروں کو کانوائے کے نام پر محصور کرکے رکھتے ہیں اور سفرِ زیارت کی غرض سے جانے والے مسافروں کو اپنے ہوٹلوں اور مسافر خانوں کے علاوہ کہیں اور ٹھہرنے بھی نہیں دیتے اور نہ ہی اپنی گاڑیوں کے علاوہ دوسروں کی گاڑیوں میں سفر کرنے دیتے ہیں۔

کوئٹہ سے آگے نکلیں تو جگہ جگہ چیک پوسٹوں پر ایف سی والے لوگوں کی توہین کرتے اور رشوت وصول کرتے نظر آتے ہیں۔کسی کو پوچھ گچھ کا کوئی خطرہ نہیں،ہر کسی نے لوٹنے کے لئے چند بہانے تیار کررکھے ہیں۔جب تک یہ بہانے چلتے رہیں گے کرپشن چلتی رہے گی۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ نیب کا ادارہ عوام کے درد کو محسوس کرے اور عوام کے ذریعے کرپٹ عناصر کا سراغ لگائے۔ جہاں پر عوام کے ذریعے کرپٹ لوگوں کا سراغ لگانا ضروری ہے وہاں عوام کو کرپشن سے آگاہی اور کرپشن کے خلاف بولنے کا شعور دینا بھی ضروری ہے۔ آخر میں ہماری دعا ہے کہ خدا ہماری ملت کے حال پر رحم کرے اور ہمارے اداروں میں دیانتدار اور امین لوگ ملک و قوم کی خدمت کرتے ہوئے نظر آئیں۔
 
خبر کا کوڈ: 598307
 
 
2


1395-10-19 19:53:43
ہمارے ہاں کرپشن کی صورتحال اس قدر شرمناک ہوچکی ہے کہ حج و عمرہ کے تقدیس کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے کرپٹ عناصر عازمین کو لوٹتے ہیں اور خوار کر دیتے ہیں۔ ان سے یہاں بھاری رقوم تو وصول کر لی جاتی ہیں لیکن سعودی عرب پہنچنے پر انہیں کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ (600006)
 
Iran, Islamic Republic of
1395-10-20 07:07:01
بالکل ٹھیک کہا ہے (600008)