کرم ایجنسی، پاک افغان سرحدی علاقہ غوزگڑی میں امریکی ڈرون حملہ، اب تک کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، ابتدائی رپورٹ"محبین اہلبیت (ع) اور تکفیریت" بین الاقوامی کانفرنس کیلئے مقالات کی کالامریکی ڈرون حملہ /شام میں حزب اللہ کے ۸ کمانڈو شہیددمشق المیدان اسکوائر میں خودکش دھماکہ / ۱۰ افراد شہید ۲۰ مجروحکابل میں امام بارگاہ کے قریب خودکش دھماکہ، 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمیکابل میں مسجد شیعیان پر دہشت گردوں کا حملہ / ۶ شہید ۳۳ زخمیافغانستان کو داعش کا گڑھ بنانا پاکستان کیخلاف امریکی سازش کا حصہ ہے، جنرل(ر) اسلم بیگکرم ایجنسی، سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکے، 4 اہلکار زخمیشہید مدافع حرم محسن حججی کی تہران میں با شکوہ تشیع جنازہ / تفصیلی خبر جلد ہی اسلام ٹائمز پرسعودی لڑاکا طیاروں کی کاروائی ، یمن میں ایک ہی خاندان کے ۹ افراد جاں بحق
 
 
 

امام صادق (ع) کا مقام امام ابو حنیفہ کی زبانی

استقبال ماہ رمضان المبارک

کن فیکن

حکومت، اسکے تقاضے اور موجودہ حکمران

زیارات معصومینؑ کی مخالفت، ذہنی فتور ہے

دینی مدارس، غلط فہمیاں اور منفی پروپیگنڈہ

شناخت مجهولات کا منطقی راستہ

انسان کی شخصیت میں دوست کا کردار

اقبال اور تصورِ امامت (1)

روزے کا فلسفہ، چند معروضات

قیام امام حسینؑ کی اہمیت غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں

امام حسین (ع) کے بارے میں آئمہ معصومین علیہم السلام کے ارشادات

تاریخ بشریت کا چمکتا ستارہ

فضیلت حضرت علیؑ غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں

علی کی شیر دل بیٹی

حضرت فاطمۃالزہرا (س) بحیثیت آئیڈیل شخصیت

حضرت علی المرتضٰی۔ؑ ۔۔۔ شمعِ رسالت کا بےمثل پروانہ

زہراء (س) کیا کرے!

عظمت حضرت زہرا (س) غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں

وہ جو اصلِ لفظ بہار ہے

انقلاب حسين بزبان حضرت امام حسين (ع)

محبت اہل بیت (ع)

مشہدالمقدس، مسافر خانہ حسینیہ شہید عارف الحسینی میں میرا قیام (آخری حصہ)

مکتب تشیع کے ترجمان؟

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

الشام۔۔الشام۔۔الشام

معجزہ گر سپہ سالار

شہادتِ امام حسین (ع) کے مقاصد اور انکا حصول

آئیں حسینؑ کا غم مل کر منائیں

 
نیوز لیٹر کیلئے اپنا ای میل ایڈریس لکھیں.
 
 
Wednesday 4 January 2017 - 16:46
Share/Save/Bookmark
جنرل (ر) راحیل شریف کی 9 جنوری کو وطن واپسی، پاکستان سے پوری بریگیڈ تیار کرکے لے جانیکا امکان
جنرل (ر) راحیل شریف کی 9 جنوری کو وطن واپسی، پاکستان سے پوری بریگیڈ تیار کرکے لے جانیکا امکان
 
 
مقامی روزنامہ کے مطابق جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سعودی عرب سے 9 جنوری کو واپس پاکستان آنے کے بعد پہلے مرحلے پر ریٹائر فوجی جرنیلوں اور ریٹائرڈ اعلٰی افسروں کو منتخب کریں گے، دوسرے مرحلے پر ریٹائرڈ اعلٰی اور چھوٹے افسروں و ریٹائرڈ فوجیوں کا ایک بریگیڈ کھڑا کرنے کی کوشش کا آغاز کر دیں گے۔
 
رپورٹ: ایس ایم عابدی

دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کے نام نہاد عسکری اتحاد کو منظم کرنے کیلئے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سے تمام معاملات حتمی مراحل میں داخل ہوگئے ہیں، وہ اپنے دورہ سعودی عرب سے 9 جنوری کو وطن واپس آ رہے ہیں اور فوری طور پر اپنے ساتھ لے جانے کیلئے دو سے تین تک سابق آرمی لیفٹیننٹ جنرل، متعدد بریگیڈیئر (ر) اور کئی دیگر سابق فوجی افسران کو نئی کمان کیلئے بھرتی کریں گے، ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اگلے 3 ماہ کے اندر پاکستان سے کم و بیش ایک بریگیڈ کے لگ بھگ سابق آرمی افسر جمع کرکے جنوری فروری میں انہیں بھیجنے کا کام نہ صرف شروع کر دینگے، بلکہ مارچ کے آخر تک یہ مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔ مقامی روزنامہ کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 9 جنوری کو پاکستان واپس آتے ہی وہ اپنے کام کا آغاز کر دیں گے، انہیں دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کے عسکری اتحاد کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جس کا قیام 15 دسمبر 2015ء کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف نے کیا تھا، اس کمان کا جوائنٹ کمانڈ سینٹر جے سی سی (JCC) سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہوگا۔

کمانڈ میں شامل مسلم ممالک کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے وہ مسلم ممالک ہونگے جس کے پاس باقاعدہ فوجی اسٹرکچر موجود ہے، جن میں سعودی عرب، بحرین، بنگلہ دیش، مصر، اردن، نائیجریا، عمان، ترکی، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے نام شامل ہیں۔ دوسری صف میں وہ ممالک شامل ہوں گے، جن کی باقاعدہ تربیت یافتہ فوج اور کمان ابھی مکمل نہیں۔ ان کے نام تنیش، چاؤ، کومرو، کو ڈی آئی ڈی، ڈی جی مشری، اریٹیریا، گبون، کینیا، کویت، لبنان، مالدیپ، مالی، موریطانیہ، مراکش، نائیجیریا، سینیگال، سری لیون، صومالیہ، سوڈان، ٹوگو، تیونس، یمن، تیسری صف میں وہ ممالک ہیں جن کی رکنیت زیر غور اور زیر تکمیل ہے، ان کے نام یہ ہیں افغانستان، آذربائیجان، انڈونیشیا، تاجکستان وغیرہ۔ ان ممالک کی شمولیت یا عدم شمولیت کا فیصلہ اگلے چند ہفتے میں ہو جائے گا۔ سعودی سربراہی میں بننے والے ممالک کے جوائنٹ کمانڈ سینٹر کو پاکستان کے جی ایچ کیو کے رول ماڈل پر بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان باقاعدہ فوجی دستے بھی اس سے قبل سعودی عرب جاتے رہے ہیں، 1980ء میں پاکستانی دستے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ افرادی قوت کے طور پر شامل رہے، تاہم اسلحہ اور ساز و سامان سعودی عرب نے فراہم کیا تھا۔ 1990ء کی دہائی میں یہ دفاعی معاہدہ ختم ہوگیا اور پاکستان کی بری افواج کے دستے واپس آگئے۔ بعد ازاں صدام حسین نے جب حملہ کیا تو پاکستان سے کچھ فوجی دستے پھر سعودی عرب میں پہنچے، تاہم اس بار پاکستان کے ریگولر فوجی دستے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض نہیں جائیں گے، بلکہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سعودی عرب سے 9 جنوری کو واپس پاکستان آنے کے بعد پہلے مرحلے پر ریٹائر فوجی جرنیلوں اور ریٹائرڈ اعلٰی افسروں کو منتخب کریں گے، دوسرے مرحلے پر ریٹائرڈ اعلٰی اور چھوٹے افسروں و ریٹائرڈ فوجیوں کا ایک بریگیڈ کھڑا کرنے کی کوشش کا آغاز کر دیں گے، جو سعودی بادشاہت کے دشمنوں کے خلاف اسلامک ملٹری الائنس میں مرکزی کردار ادا کرے گا، تاہم دیگر بڑے ملکوں کی افواج میں سے بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسر اور سپاہی لئے جائیں گے۔ جن تین ملکوں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی، ان میں سعودی عرب اور پاکستان کے علاوہ ترکی، مصر اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی افواج کے بعض اہم شعبے میں پہلے ہی سے اعلٰی پیشہ ورانہ تربیت کا فریضہ پاکستان انجام دیتا رہا ہے، تاہم یہ خبر عام ہے کہ اس بار پاکستان سے بالخصوص دہشت گردی کے خلاف مہم مثلاً سوات اور وزیرستان میں ضرب عضب کے ریٹائرڈ ہیرو جمع کرکے اسلامی ممالک کی جائنٹ کمانڈ میں شامل کئے جائیں گے۔ جنرل راحیل شریف کی جانب سے سعودی اتحاد افواج میں شمولیت پر پاکستانی عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے، عوام نے اس بات پر شدید غصہ کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ جنرل راحیل کا یہ اقدام پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سبب بنے گا، عوامی حلقوں کے مطابق جنرل راحیل شریف نے فوج کی سربراہی سے لے کر اب تک نیک نامی میں اپنا نام ثبت کیا ہے اور قوم نے ان کو جو عزت دی ہے وہ بے مثال ہے، پاکستانی قوم نے انتہاء پسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ نے جنرل راحیل کو عزت بخشی، تاہم اب جنرل راحیل دہشت گردوں کے سرپرست آل سعود کی حفاظت کیلئے بنائے جانے والے فوجی اتحاد کا حصہ بن کر جہاں اپنی رسوائی کا سبب بن رہے ہیں، وہیں پاکستانی عوام کے جذبات بھی مجروح کر رہے ہیں، واضح رہے کہ سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں بننے والا سعودی فوجی اتحاد اس وقت قائم کیا گیا کہ جب یمن میں تحریک انصاراللہ کے ہاتھوں سعودی فوج کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان سمیت مختلف ممالک نے یمن پر چڑھائی کی سعودی دعوت کو مسترد کر دیا تھا۔
 
خبر کا کوڈ: 597064
 
 
4


Pakistan
1395-10-15 19:13:18
ان صاحب نے شاید حوثیوں کو ایم کیو ایم سمجھ رکھا ہے، اچھا ہے جتنے لے کر جاسکتے ہیں ضرور جائیں (599977)
 
Pakistan
1395-10-15 19:14:52
یہ صاحب بریگیڈ لے جا کر بھی کیا کر لیں گے، مجھے تو لگ رہا ہے کہ اگر انہوں نے یمن میں حوثیوں سے جھڑپ کی تو شاید پاکستان میں بہت لاشیں آئیں گی۔ (599978)
 
الطاف
Iran, Islamic Republic of
1395-10-15 21:00:15
راحيل صاحب كو آل سعود كے بجائے خالق قوی و عزیز کی رضا حاصل کرنی چاھیۓ، ورنہ ایسا نہ ھو کہ ظالمون کے ساتھ وہ بھی جنھم کا ایندھن بنے۔ (599983)
 
Iran, Islamic Republic of
1395-10-16 19:42:47
پاکستان کے سابق جرنیل اور افسر تو اپنی لمبی جوڑی توندوں کو نہیں سنبھال سکتے، وہ یمن کے دشوار گزار علاقوں میں کیا لڑیں گے۔ رہ گئے بچارے سپاہی تو فوجی فاؤنڈیشن ریالوں کے چکر میں انکو جہاں چاہے لے جاسکتی ہے۔ (599992)